بھٹکل 3/فروری (ایس او نیوز) بی جے پی ہائی کمانڈ نے کینرا رکن اسمبلی اننت کمار ہیگڈے کو حکم دیا ہے کہ وہ گاندھی جی کی جدوجہد آزادی کو ڈرامہ قراردینے اور مضحکہ اڑانے کے لئے غیر مشروط معافی مانگیں۔
خیال رہے کہ یکم فروری کو بنگلورو میں ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے رکن پارلیمان اننت کمار ہیگڈے نے کہاتھا: ”تاریخ میں لکھا ہے کہ انگریزوں نے بھوک ہڑتال سے خوف کھاکر ہندوستان چھوڑا تھا۔جب ہم یہ سنتے ہیں تو ہما راخون کھولتا ہے، ایسے لوگوں کو مہاتما کا خطاب دیا جاتا ہے۔ اننت کمار نے گاندھی جی کا نام لیے بغیر ان کی ستیہ گرہ والی جدوجہد آزادی کا مذاق اڑایا تھااور کہا تھا کہ ہم وہ لوگ نہیں ہیں جو کسی طرف سے ایک گال پر تھپڑ مارنے پراپنا دوسرا گال آگے بڑھاتے ہیں۔
اننت کمار ہیگڈے نے مزید یہ بھی کہا تھا کہ”جنگ آزادی کے تین مرحلے تھے۔ ایک گروہ انقلابیوں کا تھا جس میں چندرشیکھر آزاد، بھگت سنگھ وغیرہ نے مسلح جد وجہد کی۔ دوسرا حصہ وہ تھا جو دائیں بازو کی سوچ (موجودہ ہندوتوا کے نظریات) رکھتاتھا جس میں شیواجی، ہکّااوربکّا (چودھویں صدی کے۲ بھائی جو وجیانگر کے راجاتھے) جیسے لوگ شامل تھے۔ تیسرا گروہ وہ تھا جس نے انگریزوں کو ان دوگروپوں کے ساتھ لڑنے کا طریقہ انگریزوں کو بتا رہاتھا اور ان لوگوں نے انگریزوں کے ساتھ مصالحت کر رکھی تھی۔جن لوگوں نے ایک مُکّا بھی نہیں کھایا تھا انہیں ہندوستان کے مجاہد ین آزادی کے طورپر پیش کیا جارہا ہے۔“
اس بیان کے بعد کرناٹکا میں کانگریسی لیڈران نے اننت کمار ہیگڈے کے خلاف زبانی جنگ کا مورچہ کھول دیا تھا۔ سدارامیانے اننت کمار ہیگڈے کو ”ایک بے شرم انسان“ قرار دیتے ہوئے کہا تھا: ”گوڈسے اور ساورکرکی پرستش کرنے والوں سے اور کس بات کی امید کی جاسکتی ہے؟ “اننت کمار نے زبانی جھڑپ کا ٹویٹر پر جواب دیتے ہوئے لکھا ہے:”سدارامیا نے کہا تھا کہ سی اے اے قانو ن کے لئے وہ اپنی پیدائش کے دستاویز پیش نہیں کرسکتے۔ اب انہوں نے اپنے تمام دستاویز درست کرلیے ہیں اوربیانات دینا شروع کیا ہے۔ اس کامطلب یہ ہے کہ وزیر اعظم نریندرا مودی کی طرف سے کیا گیا اقدام نتیجہ خیز ہورہا ہے۔ ہے نا!“
میڈیا میں آئی خبر پر اگر اعتبار کریں تو بی جے پی کی اعلیٰ قیادت اننت کمار ہیگڈے کی طرف سے بابائے قوم کے خلاف ہتک آمیز تبصرے سے بڑھتے ہوئے تنازعے کو دیکھ کرپریشان ہوگئی ہے۔اس نے اپنے رکن پارلیمان ہیگڈے کوجتادیا ہے کہ اس طرح کے تبصرے ناقابل قبول ہیں۔اس لئے وہ غیر مشروط معافی مانگ لیں۔ اس سے پہلے جب وہ سابقہ پارلیمانی میعاد میں وزیر تھے تو اننت کمار ہیگڈے نے ملک کے دستور کو بدلنے کی بات کہتے ہوئے تنازع کھڑا کردیاتھا جس کے بعد انہیں پارلیمنٹ میں معافی مانگنی پڑی تھی۔شاید اس طرح کی سردردی سے بچنے کے لئے ہی دوسری بار الیکشن کے بعد مودی سرکار میں اننت کمار ہیگڈے کو وزارت سے باہر رکھا گیا ہے۔